السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَابْنُ رَوَاحَةَ آخِذٌ بِغَرْزِهِ وَهُوَ يَقُولُ:.حافظ ثناء اللہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! آج ان کا راستہ خالی کر دو، مقابلہ میں اترنے والے کی آج گردنیں اتار دی جائیں گی، جو ان کی گردنیں تن سے جدا کریں گے اور دوست کو دوست سے جدا کر دیا جائے گا، «يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقَوْلِهِ» ”اے میرے رب! میں ان کی بات پر ایمان لایا ہوں۔“