السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْوَرَّاقُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ ⦗٣٨٥⦘ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: " يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، انْزِلْ فَحَرِّكِ الرِّكَابَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ تَرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اسْمَعْ وَأَطِعْ، قَالَ: فَرَمَى بِنَفْسِهِ وَقَالَ:.سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن رواحہ! نیچے اترو اور سواری کو حرکت دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے گھورا اور کہنے لگے: «اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا» ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ فرماتا، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی نمازیں ادا کرتے۔“
«فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا» ”تو ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما اور دشمن کے مقابلہ میں ہمارے قدموں کو ثابت رکھنا۔“