حدیث نمبر: 21034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، قَالَ: فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ: أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف گئے۔ ہم ایک رات چلتے رہے تو ایک آدمی نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم ہمیں اپنے اشعار نہیں سناؤ گے؟ اور عامر ایک شاعر آدمی تھے۔ وہ (اپنی سواری سے) نیچے اترے اور سواریوں کو ہانکتے ہوئے یہ اشعار پڑھنے لگے: ”اے اللہ! اگر تو ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم صدقہ اور نماز ہی ادا نہ کرتے۔
ہمارے اوپر سکینت کو نازل فرما، جب ہمارے اوپر آزمائش آئے۔
اور ہماری پریشانی کو تبدیل فرما دینا۔“
تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”سواریوں کو ہانکنے والا کون ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ان پر رحم فرمائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ ﷺ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ قوم میں تحریک پیدا کرو، تو انہوں نے رجزیہ اشعار کہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21034
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»