السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21033
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ حَسَنَ الصَّوْتِ، كَانَ إِذَا حَدَا أَعْنَقَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انجشہ رضی اللہ عنہ عورتوں کی سواریوں کو ہانکتے تھے اور براء بن مالک رضی اللہ عنہ مردوں کی سواریوں کو چلاتے تھے اور انجشہ رضی اللہ عنہ کی آواز بڑی خوبصورت تھی، جب وہ آواز دیتے تو اونٹ تیز بھاگتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے انجشہ! تجھ پر افسوس، عورتوں کی سواریوں کو آہستہ چلاؤ۔“