السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 20979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْهَرَوِيُّ، بِسَافِرِيَّةَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: " مَا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُعْمَلُ بَعْدَهُ، إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ، كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ: " كَانَ يُقَلَّسُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ " وَالتَّقْلِيسُ: اللَّعِبُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں جو کچھ ہوتا تھا میں نے اسے آپ ﷺ کے بعد بھی ہوتے دیکھا ہے، سوائے ایک چیز کے: عید الفطر کے دن آپ ﷺ کے لیے کھیل (تقلیس) ہوا کرتا تھا۔
(ب) عمرو بن محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے لیے کھیل پیش کیا جاتا تھا اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔