حدیث نمبر: 20980
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لِأَنَّ الْمَكْتُوبَةَ أَوْجَبُ عَلَيْهِ مِنْ جَمِيعِ النَّوَافِلِ ".
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ فرض نماز اس پر تمام نوافل سے زیادہ واجب ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلِيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلِيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ يَتَقَرَّبُ إِلِيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطُشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ، وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، اس نے مجھے لڑائی کی دعوت دی، اور میرا بندہ ایسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرض کی ہیں، اور میرا بندہ ہمیشہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔ جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر میرا بندہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کر دیتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ عطا کر دیتا ہوں، اور میں نے جس کام کو کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی ایسا تردد نہیں کیا جیسا کہ مومن کی جان قبض کرنے میں کرتا ہوں، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کی تکلیف کو ناپسند کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20980
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6502»