حدیث نمبر: 2088
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو الرَّبِيعِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ قَالَ: وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ: ⦗٦٥٢⦘ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ قَالَ: فَقُمْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

علاء بن عبد الرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے قریب ہی تھا۔ جب ہم ان کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر کی ادائیگی سے فارغ ہوئے ہیں۔ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”چلو عصر کی نماز پڑھو۔“ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز ادا کی۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو وہ کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں (سجدے) لگاتا ہے اور اس میں بھی اللہ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2088
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 622»