السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية تأخير العصر باب: عصر کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2087
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُبَارَكٍ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی، پھر ہم (مسجد سے) نکلے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ عصر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: (چچا جان!) ”یہ کون سی نماز ہے، جو آپ اس وقت ادا کر رہے ہیں؟“ کہنے لگے: ”یہ عصر کی نماز ہے اور یہ رسول اللہ ﷺ کی وہ نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔“