السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية تأخير العصر باب: عصر کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ".حافظ ثناء اللہ
علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو وہ عصر کی نماز ادا کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز جلدی ادا کرنے کا ذکر کیا یا انہوں نے خود ہی پوچھا، پھر فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ منافقوں کی نماز ہے (تین بار فرمایا)۔ ان میں سے کوئی بیٹھا (انتظار کرتا) رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور وہ (سورج) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا شیطان کے دو سینگوں پر ہوتا ہے تو یہ اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور ان میں بھی اللہ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔“