السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده، والولد لوالديه باب: جس نے کہا: ”والد کی اپنی اولاد کے حق میں اور اولاد کی اپنے والدین کے حق میں گواہی جائز نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 20862
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لِأَنَّهُ مِنْ آبَائِهِ، فَإِنَّمَا يَشْهَدُ لِشَيْءٍ هُوَ مِنْهُ، وَإِنَّ بَنِيهِ هُمْ مِنْهُ، فَكَأَنَّمَا شَهِدَ لِبَعْضِهِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ اس کے آباء میں سے ہے، لہٰذا وہ ایک ایسی چیز کے حق میں گواہی دے رہا ہے جو اسی کا حصہ ہے، اور اس کے بیٹے اسی کا حصہ ہیں، تو گویا اس نے اپنے ہی ایک حصے کے حق میں گواہی دی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، مَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ میرا حصہ ہے، جس نے اس کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔“