السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده، والولد لوالديه باب: جس نے کہا: ”والد کی اپنی اولاد کے حق میں اور اولاد کی اپنے والدین کے حق میں گواہی جائز نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 20863
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ ابْنَيِ ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " وَاللهِ إِنَّكُمْ لَتُجَهَّلُونَ، وَتُجَبَّنُونَ، وَتُبَخَّلُونَ، وَإِنَّكُمْ لِمَنْ رَيْحَانِ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا (جو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ اپنے (نواسوں) کو سینے سے لگائے ہوئے باہر تشریف لائے اور فرما رہے تھے: ”تم بزدل بناتے ہو، تم جاہل بناتے ہو اور تم بخیل بناتے ہو۔ بیشک یہ اللہ کے پھول ہیں۔“
(ب) سیدنا یعلی بن منیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما دونوں نبی ﷺ کی طرف دوڑتے ہوئے آئے، آپ ﷺ نے ان کو سینے سے لگا لیا، پھر فرمایا: ”بچے بخیلی، بزدلی اور غمگینی کا باعث ہیں۔“