السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20815
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ، عَنِ الْأَصْمَعِيِّ، قَالَ: قَالَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ: " الدُّنْيَا الْعَافِيَةُ، وَالشَّبَابُ الصِّحَّةُ، وَالْمُرُوءَةُ الصَّبْرُ عَلَى الرِّجَالِ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ: مَا الصَّبْرُ عَلَى الرِّجَالِ؟ فَوَصَفَ الْمُدَارَاةَ.حافظ ثناء اللہ
اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دنیا سے مراد عافیت ہے اور شباب سے مراد صحت ہے، مروت سے مراد «الصَّبْرُ عَلَى الرِّجَالِ» ”مردوں پر صبر کرنا“ ہے، میں نے پوچھا: «الصَّبْرُ عَلَى الرِّجَالِ» کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نرمی برتنا۔