السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20814
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُؤَمَّلِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْفَارِسِيَّ يَقُولُ: قَرَأْتُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَنَّ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ عَنِ الْمُرُوءَةِ، فَقَالَ الْأَحْنَفُ: " الْمُرُوءَةُ التُّقَى وَالِاحْتِمَالُ، ثُمَّ أَطْرَقَ الْأَحْنَفُ سَاعَةً وَقَالَ:.حافظ ثناء اللہ
محمد بن یعقوب فارسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتب میں پڑھا کہ یزید بن معاویہ نے احنف بن قیس رحمہ اللہ سے مروت کے بارے میں پوچھا تو احنف رحمہ اللہ کہنے لگے کہ اس سے مراد تقویٰ اور پاک دامن رہنا ہے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد یہ شعر پڑھا: ”جب خوبصورت آدمی خوبصورت کام نہ کرے، اس کے جمال اور نوجوان کے اخلاق میں بھلائی نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے۔“ یزید نے کہا: ”بہت خوب اے ابو بحر! سمندر کے موافق ہو گیا۔“ احنف رحمہ اللہ نے کہا: ”تو نے یہ کیوں نہ کہا: معنی تفسیر کے موافق ہو گیا۔“