السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20816
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُشْرِفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ: قُلْتُ لِإِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ: مَا الْمُرُوءَةُ؟ قَالَ: " أَمَّا فِي بَلَدِكَ وَحَيْثُ تُعْرَفُ: التَّقْوَى، وَأَمَّا حَيْثُ لَا تُعْرَفُ: فَاللِّبَاسُ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ سے کہا: مروت کیا ہے؟ فرمایا: تیرے شہر میں یا ایسی جگہ جہاں تو نرمی برتنے کے باعث پہچانا جائے، وہاں تقویٰ ہے اور اگر ایسی جگہ ہو جہاں تو نہ پہچانا جائے، تو وہاں لباس ہے۔