حدیث نمبر: 20816
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُشْرِفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، قَالَ: قُلْتُ لِإِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ: مَا الْمُرُوءَةُ؟ قَالَ: " أَمَّا فِي بَلَدِكَ وَحَيْثُ تُعْرَفُ: التَّقْوَى، وَأَمَّا حَيْثُ لَا تُعْرَفُ: فَاللِّبَاسُ ".
حافظ ثناء اللہ

سفیان بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ سے کہا: مروت کیا ہے؟ فرمایا: تیرے شہر میں یا ایسی جگہ جہاں تو نرمی برتنے کے باعث پہچانا جائے، وہاں تقویٰ ہے اور اگر ایسی جگہ ہو جہاں تو نہ پہچانا جائے، تو وہاں لباس ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20816
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»