السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : بيان مكارم الأخلاق ومعاليها التي من كان متخلقا بها كان من أهل المروءة التي هي شرط في قبول الشهادة على طريق الاختصار باب: ان اعلیٰ اور عمدہ اخلاق کا مختصر بیان کہ جو انہیں اپنا لے وہ با مروّت لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو کہ گواہی قبول ہونے کے لیے ایک شرط ہے۔
حدیث نمبر: 20813
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْمُنْتَجِعُ بْنُ مُصْعَبٍ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ التَّمِيمِيِّ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ، سَأَلَ رَجُلًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ: مَا تَعُدُّونَ الْمُرُوءَةَ فِيكُمْ؟ قَالَ: " الْحِرْفَةُ وَالْعِفَّةُ ".حافظ ثناء اللہ
حبیب تمیمی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالقیس کے ایک آدمی سے پوچھا کہ مروت کو تم کس میں شمار کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اسے حرفت اور عفت میں شمار کرتے ہیں۔
(ب) ابوسوار سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ مروت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دین میں پاک دامنی اختیار کرنا اور معیشت کی اصلاح کرنا۔