السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، وَآخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، رَجُلٌ يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ، وَارْفَعُوا عَنْهُ كِبَارَهَا، فَيُعْرَضُ عَلَيْهِ صِغَارُ ذُنُوبِهِ فَيُقَالُ: عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُنْكِرَ وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنْ كِبَارِ ذُنُوبِهِ أَنْ تُعْرَضَ عَلَيْهِ، فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ بِمَكَانِ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَا أَرَاهَا هَهُنَا "، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ.معرور بن سوید سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہونے والے آخری آدمی کو جانتا ہوں اور جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے کو بھی جانتا ہوں۔ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، کہا جائے گا: اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کرو اور کبیرہ پیش نہ کرنا۔ پس صغیرہ گناہ پیش کیے جائیں گے، تو کہا جائے گا: تو نے یہ یہ کام کیے فلاں فلاں دن؟ تو وہ اعتراف کرے گا۔ انکار کی جرات نہ ہوگی، وہ کبیرہ گناہوں سے خوف کھائے گا کہ وہ پیش نہ کر دیے جائیں تو اس کو کہہ دیا جائے گا: ہر برائی کے بدلے نیکی تجھے ملے گی، پھر وہ کہے گا: اے اللہ! میں نے بہت سارے اعمال کیے تھے جو مجھے یہاں نظر نہیں آ رہے۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ ہنس رہے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھ مبارک نظر آنے لگی۔