السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20773
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِكَعْبِ الْأَحْبَارِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً، فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا "، قَالَ كَعْبٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، وَبِهَذَا اللَّفْظِ أَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک قبول ہونے والی دعا ہوتی ہے، تو ہر نبی نے اپنی دعا میں جلدی کی۔ لیکن میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لیے قیامت کے لیے باقی رکھی ہے، یہ اس کو قیامت کے دن ملے گی، جو بغیر شرک کے مر گیا۔“ کعب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے یہ بات نبی ﷺ سے سنی ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔