السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ، مَنْ كُنْتَ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، فَقُلْتُ: " يَا جِبْرِيلُ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَا؟ "، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَا، قُلْتُ: " وَإِنْ سَرَقَ وَزَنَا؟ "، قَالَ: وَإِنْ سَرَقَ وَزَنَا وَشَرِبَ الْخَمْرَ ". . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ.زید بن وہب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے، لیکن آپ ﷺ کے ساتھ کوئی انسان نہ تھا۔ حدیث کو ذکر کیا۔ کہتے ہیں: جب آپ ﷺ آئے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے کہہ دیا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ ﷺ مدینہ کے پتھریلے علاقے میں کس سے بات چیت کر رہے تھے؟ میں نے کسی چیز کو آپ کی طرف آتے ہوئے نہیں دیکھا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبرائیل تھے جو آئے تھے، انہوں نے کہا: اپنی امت کو بشارت دے دو جو شرک کیے بغیر فوت ہو گیا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل! اگرچہ اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ اگرچہ وہ زانی، چور اور شرابی ہی کیوں نہ ہو۔“