السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20749
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، وَأَبُو سَلَمَةَ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ آدَمِيٍّ "، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی آدمی ایسا نہیں۔۔۔“ پھر اس کے ہم معنی ذکر کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی کے ظاہر پر اطاعت و مروت غالب ہو تو اس کی شہادت قبول ہوگی۔ اگر اس کا ظاہر نافرمان اور خلافِ مروت ہو تو گواہی رد کردی جائے گی۔