السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20750
قَالَ الشَّيْخُ: وَتَفْسِيرُ هَذَا فِيمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ الْفَقِيهَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ بْنَ سُرَيْجٍ يَقُولُ، وَسُئِلَ عَنْ صِفَةِ الْعَدَالَةِ، فَقَالَ: يَكُونُ حُرًّا مُسْلِمًا بَالِغًا عَاقِلًا غَيْرَ مُرْتَكِبٍ لَكَبِيرَةٍ، وَلَا مُصِرٍّ عَلَى صَغِيرَةٍ، وَلَا يَكُونُ تَارِكًا لِلْمُرُوءَةِ فِي غَالِبِ الْعَادَةِ، قَالَ الشَّيْخُ: " أَمَا الْحُجَّةُ فِي شَرْطِ الْإِسْلَامِ وَالْحُرِّيَةُ وَالْبُلُوغُ وَالْعَقْلُ فَقَدْ مَضَتْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عباس بن سریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عادل کی صفت کے بارے میں بیان کیا گیا کہ وہ آزاد، عاقل، بالغ اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو اور صغیرہ پر مصر بھی نہ ہو اور عام عادت میں مروت کو بھی نہ چھوڑے۔