السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20748
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا، فَإِنَّهُ لَمْ يُخْطِئْ، وَلَمْ يَهِمَّ بِخَطِيئَةٍ "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں جس سے گناہ سرزد نہ ہو یا وہ گناہ کا ارادہ نہ کرے، سوائے یحییٰ بن زکریا کے، نہ انہوں نے غلطی کی اور نہ ہی گناہ کا قصد کیا۔“