السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : التشديد في اليمين الفاجرة، وما يستحب للإمام من الوعظ فيها باب: جھوٹی قسم کے معاملے میں سختی (وعید) اور اس سلسلے میں امام کے لیے فریقین کو نصیحت کرنے کے استحباب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗٣٠٠⦘ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ وَهُوَ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صَدَقَ، فِيَّ نَزَلَتْ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ خُصُومَةٌ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَيَمِينُهُ "؟ قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْأَعْمَشِ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لازمی قسم اٹھائی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے وہ اللہ سے ملے گا تو اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت لیتے ہیں۔“ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے تمہیں کیا بیان کیا ہے؟ کہنے لگے: فلاں فلاں۔ کہنے لگے: اس نے سچ کہا، یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ یمن کی زمین کے بارے میں میرا ایک آدمی سے جھگڑا تھا۔ ہم نبی ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قسم۔“ میں نے کہا: تب وہ بھی قسم اٹھائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم اٹھا کر مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہا وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اس حال میں کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“