السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : التشديد في اليمين الفاجرة، وما يستحب للإمام من الوعظ فيها باب: جھوٹی قسم کے معاملے میں سختی (وعید) اور اس سلسلے میں امام کے لیے فریقین کو نصیحت کرنے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20705
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جبری قسم اٹھا کر کسی مسلمان بھائی کا مال ہڑپ کرنا چاہا، اور وہ اس قسم میں جھوٹا بھی ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوں گے۔“