السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : التشديد في اليمين الفاجرة، وما يستحب للإمام من الوعظ فيها باب: جھوٹی قسم کے معاملے میں سختی (وعید) اور اس سلسلے میں امام کے لیے فریقین کو نصیحت کرنے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 20707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، وَجَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ عَبْدُ اللهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] الْآيَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کے عوض مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہا وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“