السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا يجوز شهادة غير عدل باب: غیر عادل شخص کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 20632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " ادْعُ مَا شِئْتَ، وَائْتِ بِشُهُودٍ عُدُولٍ، فَإِنَّا أُمِرْنَا بِالْعُدُولِ، وَائْتِ فَسَلْ عَنْهُ "، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو چاہو دعویٰ کرو، لیکن گواہ عادل لاؤ، ہمارا فیصلہ ہی عادل گواہ کی وجہ سے ہے اور اس کے بارے میں سوال کرو۔