حدیث نمبر: 20631
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] وَقَالَ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّا لَا نَرْضَى أَهْلَ الْفِسْقِ مِنَّا، وَإِنَّ الرِّضَا إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى الْعُدُولِ مِنَّا "..
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2]
اور فرمایا: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہم اپنے میں سے فاسق لوگوں کو پسند نہیں کرتے، اور پسندیدگی کا اطلاق تو صرف ہمارے عادل لوگوں پر ہی ہوتا ہے...“

أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: جِئْتُكَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَمَا هُوَ؟ "، قَالَ: شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا، قَالَ: " وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا وَاللهِ، لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " لَا يُؤْسَرُ: يَعْنِي: لَا يُحْبَسُ ".
حافظ ثناء اللہ

ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میں آپ کے پاس ایسا معاملہ لے کر آیا ہوں جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: جھوٹی گواہی جو ہمارے علاقہ میں پائی جانے لگی ہے۔ فرمایا: بات ایسے ہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اسلام میں عادل آدمی کے علاوہ کسی کی گواہی قابلِ قبول نہیں ہے، یعنی گواہی کے بارے میں روکا نہ جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20631
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك»