السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من أجاز شهادة أهل الذمة على الوصية في السفر عند عدم من شهد عليها من المسلمين باب: جس نے سفر کے دوران مسلمانوں میں سے گواہوں کے نہ ملنے کی صورت میں وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ: " كَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةَ يَهُودِيٍّ وَلَا نَصْرَانِيٍّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا فِي الْوَصِيَّةِ، وَلَا يُجِيزُهَا فِي الْوَصِيَّةِ إِلَّا فِي السَّفَرِ ". وَرَوَى يَحْيَى بْنُ وَثَّابٍ أَنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُجِيزُ شَهَادَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی کی گواہی مسلمان کے خلاف صرف وصیت میں معتبر ہے، ویسے نہیں، اور یہ بھی سفر کے ساتھ مخصوص ہے۔
(ب) یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ اہل کتاب کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی کو جائز خیال کرتے تھے۔