السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من أجاز شهادة أهل الذمة على الوصية في السفر عند عدم من شهد عليها من المسلمين باب: جس نے سفر کے دوران مسلمانوں میں سے گواہوں کے نہ ملنے کی صورت میں وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20627
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا حَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَازَ شَهَادَةَ الْيَهُودِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: أَجَازَ شَهَادَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُجَالِدٍ، وَهُوَ مِمَّا أَخْطَأَ فِيهِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ مِنْ قَوْلِهِ وَحُكْمُهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہودیوں کی شہادت ایک دوسرے کے خلاف درست قرار دی۔
ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ اہل کتاب کی شہادت ایک دوسرے کے خلاف درست قرار دی۔
ابو خالد احمر نے اسے مجالد سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور یہ ان کی غلطیوں میں سے ہے، جبکہ دوسروں نے اسے مجالد سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے قاضی شریح سے ان کے اپنے قول اور فیصلے کے طور پر روایت کیا ہے، یہ مرفوع نہیں ہے۔