السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من أجاز شهادة أهل الذمة على الوصية في السفر عند عدم من شهد عليها من المسلمين باب: جس نے سفر کے دوران مسلمانوں میں سے گواہوں کے نہ ملنے کی صورت میں وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20628
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا يَذْكُرُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كَانَ شُرَيْحٌ يُجِيزُ شَهَادَةَ كُلِّ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّتِهَا، وَلَا يُجِيزُ شَهَادَةَ الْيَهُودِيِّ عَلَى النَّصْرَانِيِّ، وَلَا النَّصْرَانِيِّ عَلَى الْيَهُودِيِّ، إِلَّا الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَتَهُمْ عَلَى الْمِلَلِ كُلِّهَا ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ ہر دین والے کی شہادت دوسرے کے خلاف سنتے تھے، لیکن یہودی کی عیسائی کے خلاف اور عیسائی کی یہودی کے خلاف جائز خیال نہیں کرتے تھے، البتہ مسلمان کی شہادت ہر ایک کے خلاف قبول کرتے تھے کیونکہ ان کی شہادت سب کے خلاف جائز ہے۔