السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من أجاز شهادة أهل الذمة على الوصية في السفر عند عدم من شهد عليها من المسلمين باب: جس نے سفر کے دوران مسلمانوں میں سے گواہوں کے نہ ملنے کی صورت میں وصیت پر اہل ذمہ کی گواہی کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 20626
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَا هَذِهِ، وَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَشْهَدُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا الْكُوفَةَ فَأَتَيَا الْأَشْعَرِيَّ فَأَخْبَرَاهُ، وَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ وَوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ بِاللهِ مَا خَانَا وَلَا كَذِبَا وَلَا بَدَّلَا وَلَا كَتَمَا، وَلَا غَيَّرَا، وَإِنَّهَا لَوَصِيَّةُ الرَّجُلِ وَتَرِكَتُهُ، فَأَمْضَى شَهَادَتَهُمَا ". ⦗٢٧٩⦘ هَذَا حَدِيثُ هُشَيْمٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ نُمَيْرٍ مُخْتَصَرٌ.حافظ ثناء اللہ
زکریا، شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک آدمی کو ”دقوقا“ نامی جگہ پر موت آئی تو وصیت پر گواہی کے لیے کوئی مسلمان موجود نہ تھا۔ اس نے دو اہل کتاب گواہ بنا لیے، وہ کوفہ میں اشعریوں کے پاس آئے۔ اس کا ترکہ اور وصیت دی تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جو نبی ﷺ کے بعد پیش آیا۔ انہوں نے ان دونوں سے اس کے بعد قسمیں لیں کہ انہوں نے جھوٹ، خیانت یا وصیت میں ردوبدل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: یہ اس کی وصیت اور ترکہ ہے۔ اس طرح ان کی شہادت مکمل ہوئی۔