السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في قول الله عز وجل: {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان: ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی یہ ہے کہ تم میں سے دو ثقہ (معتبر) آدمی گواہ ہوں یا تمہارے غیروں (غیر مسلموں) میں سے دو اور شخص ہوں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بِذَا، فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ، فَقَدُوا جَامَ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَجَدُوا الْجَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ تَمِيمٍ وَعَدِيٍّ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا: لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا، وَإِنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ - هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو سہم کا ایک آدمی تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا، اس سہمی کی موت ایسی جگہ ہوئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو ایک چاندی کا پیالہ جس پر سونے کی ملاوٹ تھی الگ کر لیا۔ نبی ﷺ نے ان دونوں سے قسمیں لیں۔ پھر وہ پیالہ مکہ سے مل گیا، انہوں نے کہا: ہم نے تمیم و عدی سے خریدا ہے، تو سہمی کے دو ورثاء کھڑے ہوئے، انہوں نے قسم اٹھائی کہ ان کی شہادت سے ہماری شہادت کا زیادہ حق ہے کہ ہمارے ساتھی کا پیالہ ان کے پاس ہے، اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106]۔