السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ولا يضار كاتب ولا شهيد باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: ٢٨٢] يَقُولُ: " مَنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ شَهِدَ عَلَى شَهَادَةٍ، أَوْ كَانَتْ عِنْدَهُ شَهَادَةٌ، فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْبَى إِذَا مَا دُعِيَ "، ثُمَّ ⦗٢٧١⦘ قَالَ بَعْدَ هَذَا: " {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢]، وَالْإِضْرَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ وَهُوَ عَنْهُ غَنِيٌّ: إِنَّ اللهَ قَدْ أَمَرَكَ أَنْ لَا تَأْبَى إِذَا مَا دُعِيتَ، فَيُضَارَّهُ بِذَلِكَ وَهُوَ مَكْفِيٌّ بِغَيْرِهِ، فَنَهَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ: {وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ} [البقرة: ٢٨٢] يَعْنِي بِالْفُسُوقِ الْمَعْصِيَةَ ".علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ [سورة البقرة: 282] ”گواہ انکار نہ کرے جب اس کو بلایا جائے“ کے متعلق فرماتے ہیں: جب مسلمانوں کو اس کی گواہی کی ضرورت ہو تب وہ گواہی سے انکار نہ کرے، اس کے بعد یہ فرمایا ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] ”کہ کاتب اور گواہ کو تنگ نہ کیا جائے۔“
غنی آدمی دوسرے سے کہتا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ تو انکار نہ کرے جب گواہی کے لیے طلب کیا جائے۔ وہ اس کو تکلیف دیتا ہے، حالانکہ اس کے بغیر بھی کفایت ہو جاتی ہے تو اللہ نے اس کو منع کر دیا ﴿وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 282] ”اگر تم نے ایسا کیا تو تم گناہ گار ہو جاؤ گے۔“