السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ولا يضار كاتب ولا شهيد باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ سُفْيَانُ: " هُوَ الرَّجُلُ يَأْتِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ: اكْتُبْ لِي، فَيَقُولُ: أَنَا مَشْغُولٌ، انْظُرْ غَيْرِي، وَلَا يُضَارَّهُ، يَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيَنْظُرْ غَيْرَهُ، وَالشَّهِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلَ يُشْهِدُهُ عَلَى الشَّيْءِ، فَيَقُولُ: إِنِّي مَشْغُولٌ، فَانْظُرْ غَيْرِي، فَلَا يُضَارَّهُ فَيَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيُشْهِدْ غَيْرَهُ ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ قَوْلُ سُفْيَانَ.حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] پڑھا: ”کہ کاتب اور گواہ کو پریشان نہ کیا جائے۔“ سفیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس آتا ہے، وہ کہتا ہے: ”مجھے لکھ دو۔“ وہ کہتا ہے: ”میں مصروف ہوں، میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کر لو۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تمہیں ہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی دوسرے کو تلاش کر لے۔ اور گواہ کے پاس کوئی آتا ہے کہ اسے کسی چیز پر گواہ بنائے، وہ کہتا ہے کہ: ”میں مصروف ہوں، کسی اور کو لے جاؤ۔“ تو وہ اسے یہ کہہ کر تکلیف نہ دے کہ: ”میں تو صرف تیری گواہی چاہتا ہوں۔“ بلکہ کسی اور کو گواہ بنا لے۔