السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ولا يضار كاتب ولا شهيد باب: کسی کاتب اور کسی گواہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
حدیث نمبر: 20604
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْبُلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ} [البقرة: ٢٨٢] قَالَ سُفْيَانُ: " هُوَ الرَّجُلُ يَأْتِي الرَّجُلَ فَيَقُولُ: اكْتُبْ لِي، فَيَقُولُ: أَنَا مَشْغُولٌ، انْظُرْ غَيْرِي، وَلَا يُضَارَّهُ، يَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيَنْظُرْ غَيْرَهُ، وَالشَّهِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلَ يُشْهِدُهُ عَلَى الشَّيْءِ، فَيَقُولُ: إِنِّي مَشْغُولٌ، فَانْظُرْ غَيْرِي، فَلَا يُضَارَّهُ فَيَقُولُ: لَا أُرِيدُ إِلَّا أَنْتَ، لِيُشْهِدْ غَيْرَهُ ". لَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ قَوْلُ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ﴿وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ﴾ [سورة البقرة: 282] پڑھا: ”کہ کاتب اور گواہ کو پریشان نہ کیا جائے۔“ سفیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی دوسرے کے پاس آتا ہے، وہ کہتا ہے: ”مجھے لکھ دو۔“ وہ کہتا ہے: ”میں مصروف ہوں، میرے علاوہ کسی دوسرے کو تلاش کر لو۔“ تو اس کو مجبور نہ کیا جائے۔ وہ کہتا ہے کہ: ”تیرے علاوہ میں کسی کو تلاش نہ کروں گا۔“ اور گواہ کے پاس کوئی آتا ہے، وہ کہتا ہے کہ: ”میں مصروف ہوں، کسی اور کو لے جاؤ۔“ وہ اس کو تکلیف نہ دے۔ وہ کہتا ہے کہ: ”میں تو صرف تیری گواہی چاہتا ہوں۔“