حدیث نمبر: 20601
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا} [البقرة: 282]..
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ ”اور جب گواہوں کو (گواہی کے لیے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔“ [سورة البقرة: 282]...

وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ لِيَشْهَدَ، وَإِذَا دُعِيَ لِيُقِيمَهَا، كِلَاهُمَا "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ، عَنِ الْحَسَنِ: " فَإِنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ لَوْ أَبَوْا أَنْ يَشْهَدَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَمْ يَسَعْهُمْ ذَلِكَ ". وَقَدْ ذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ، وَالْآيَةُ مُحْتَمِلَةٌ لِلْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا، كَمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ، وَهُوَ فِي التَّحَمُّلِ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ، فَإِذَا قَامَ بِهِ وَبِالْكِتَابَةِ مَنْ يَكْفِي أُخْرِجَ مَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمَأْثَمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

یونس بن عبید حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب گواہ کو گواہی کے لیے طلب کیا جائے تو وہ ضرور موجود ہو۔
نوٹ: حسن کے علاوہ دوسرے بیان کرتے ہیں کہ اگر وہ گواہی سے انکار کر دیں تو ان کو مجبور نہ کیا جائے۔
مفسرین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ آیت شہادت کے بارے میں ہے۔ حضرت حسن رحمہ اللہ نے اس کو فرضِ کفایہ پر محمول کیا ہے، جب وہ اس کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو کون سی چیز اس کو گناہ سے باز رکھے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20601
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»