السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : كراهية التسارع إلى الشهادة وصاحبها بها عالم حتى يستشهده باب: گواہی دینے میں جلد بازی کرنے کی کراہت جبکہ گواہ کو اس کا علم ہو یہاں تک کہ اس سے گواہی طلب کی جائے۔
حدیث نمبر: 20599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ " قَالَ أَبُو الْفَضْلِ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: " يَحْلِفُونَ " لَيْسَ إِلَّا فِي حَدِيثِ هِشَامٍ مِنْ أَصْحَابِ قَتَادَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ بِزِيَادَتِهِ وَهَذِهِ زِيَادَةٌ يَنْفَرِدُ بِهَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا دور بہترین ہے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے، قسم اٹھائیں گے لیکن ان سے قسم طلب نہیں کی جائے گی، خیانت کریں گے اور امین نہیں ہوں گے، گواہی دیں گے لیکن ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور ان میں موٹاپا عام ہو گا۔“
ابوالفضل اپنی حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سلمہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ قسم اٹھائیں گے۔ یہ الفاظ صرف ابوقتادہ کے شاگرد ہی بیان کرتے ہیں۔