السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: وجوه العلم بالشهادة باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مِنْهَا: مَا عَايَنَهُ الشَّاهِدُ، فَيَشْهَدُ بِالْمُعَايَنَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهِيَ الْأَفْعَالُ الَّتِي تُعَايِنُهَا فَتَشَهَدُ عَلَيْهَا بِالْمُعَايَنَةِ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان (گواہی کی صورتوں) میں سے ایک یہ ہے کہ جس چیز کا گواہ نے (خود) مشاہدہ کیا ہو تو وہ مشاہدے کی بنیاد پر گواہی دے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اس سے مراد وہ افعال ہیں جن کا تم مشاہدہ کرتے ہو اور پھر مشاہدے کی بنیاد پر ان کی گواہی دیتے ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟ قَالَ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: آمَنْتُ بِاللهِ، وَكَذَّبْتُ بَصَرِي ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْهَا مَا تَظَاهَرَتْ بِهِ الْأَخْبَارُ مِمَّا لَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهِ الْعَيَانُ، وَتَثْبُتُ مَعْرِفَتُهُ فِي الْقُلُوبِ، فَيَشْهَدُ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَجْهِ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تو اس سے فرمایا: ”کیا تو نے چوری کی ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“، (وہ کہنے لگا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“)، تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فرمانے لگے: ”میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنی نظر کو جھٹلاتا ہوں۔““
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ایسی خبریں ظاہر ہوں جن کا اکثر ظاہر ہونا ممکن نہیں ہوتا، لیکن دلوں میں ان کا ثبوت ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ ثابت ہو جاتی ہیں۔