السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: وجوه العلم بالشهادة باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 20582
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَمَتَّ لَهُ بِرَحِمٍ بَعِيدَةٍ، فَأَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْرَفُوا أَنْسَابَكُمْ تَصِلُوا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهُ لَا قُرْبَ لِلرَّحِمِ إِذَا قُطِعَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً، وَلَا بُعْدَ لَهَا إِذَا وُصِلَتْ، وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً ". فَأَمَرَ بِمَعْرِفَةِ الْأَنْسَابِ، وَالْعِلْمُ بِأَصْلِهَا إِنَّمَا يَقَعُ بِتَظَاهُرِ الْأَخْبَارِ، وَلَا يُمْكِنُ فِي أَكْثَرِهَا الْعَيَانُ.حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان کے پاس ایک آدمی آیا، انہوں نے اس سے سوال کیا کہ: ”تم کون ہو؟“ اس کی دور کی رشتہ داری تھی، اب اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نسبوں کو پہچانو اور رشتہ داریاں ملایا کرو، جب رشتہ داری کاٹ دی جائے تو جتنی بھی قریبی ہو نہیں رہتی اور دوری نہیں ہوتی جب اس کو ملایا جائے، اگرچہ دور کا تعلق ہی کیوں نہ ہو۔“ انہوں نے نسب کو پہچاننے کا حکم دیا؛ کیونکہ اخبار سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اکثر ان کی اصل معلوم نہیں ہوتی۔