حدیث نمبر: 20545
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [النور: 4] {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [آل عمران: 89] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالثُّنْيَا فِي سِيَاقِ الْكَلَامِ عَلَى أَوَّلِ الْكَلَامِ وَآخِرِهِ فِي جَمِيعِ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ أَهْلُ الْفِقْهِ، إِلَّا أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ ذَلِكَ خَبَرٌ، ⦗256⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَإِنَّ فِيهِ لَحَدِيثًا "..
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اسی (80) کوڑے مارو اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔“ [سورة النور: 4] ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ”سوائے ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورة النور: 5]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور کلام کے سیاق میں آنے والا استثنا تمام اہل فقہ کے مذہب کے مطابق کلام کے شروع اور آخر (دونوں) پر لاگو ہوتا ہے، الا یہ کہ کوئی حدیث ان کے درمیان فرق کر دے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور بے شک اس بارے میں ایک حدیث (بھی) ہے...“

فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي: أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: زَعَمَ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنَّ شَهَادَةَ الْمَحْدُودِ لَا تَجُوزُ، فَأَشْهَدُ لَأَخْبَرَنِي فُلَانٌ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرَةَ: " تُبْ، تُقْبَلْ شَهَادَتُكَ "، أَوْ: " إِنْ تُبْتَ قُبِلَتْ شَهَادَتُكَ ". قَالَ سُفْيَانُ: سَمَّى الزُّهْرِيُّ الَّذِي أَخْبَرَهُ، فَحَفِظْتُهُ ثُمَّ نَسِيتُهُ، وَشَكَكْتُ فِيهِ، فَلَمَّا قُمْنَا سَأَلْتُ مَنْ حَضَرَ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ: هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَقُلْتُ لَهُ: فَهَلْ شَكَكْتَ فِيمَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: لَا، هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ غَيْرَ شَكٍّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَثِيرًا مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ فَيُسَمِّي سَعِيدًا، وَكَثِيرًا مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنْ سَعِيدٍ إِنْ شَاءَ اللهُ "، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْحِفْظِ عَنْ سَعِيدٍ لَيْسَ فِيهِ شَكٌّ، وَزَادَ فِيهِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَتَابَ الثَّلَاثَةَ فَتَابَ اثْنَانِ، فَأَجَازَ شَهَادَتَهُمَا، وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ اہل عراق کا خیال ہے کہ جس کو حد لگائی گئی ہو اس کی گواہی جائز نہیں ہے، میں اس بات کی خبر دیتا ہوں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: توبہ کرو آپ کی شہادت قبول کی جائے گی یا اگر تو نے توبہ کر لی تو تیری گواہی قبول کی جائے گی۔
(ب) حفاظ حضرت سعید رحمہ اللہ سے بغیر شک کے نقل فرماتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین سے توبہ کا مطالبہ کیا، دو نے توبہ کر لی تو ان کی شہادت قبول کی گئی اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو ان کی گواہی رد کر دی گئی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20545
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»