السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل الظهر في غير شدة الحر باب: شدید گرمی نہ ہونے کی صورت میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2054
وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ دُونَ قَوْلِهِ: مَا اسْتَثْنَتْ أَبَاهَا وَلَا عُمَرَ وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ قَالَهُ ابْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ وَقَدْ رَوَاهُ إِسْحَاقُ مَرَّةً عَلَى الصَّوَابِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت اسحاق ازرق سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔ البتہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ انہوں نے نہ اپنے باپ کو مستثنیٰ کیا اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ کو، لیکن یہ ان کا وہم ہے۔ صحیح وہی ہے جسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، یہ بات امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔