السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تأخير الظهر في شدة الحر باب: شدید گرمی میں ظہر کی نماز مؤخر کرنے (تاخیر سے پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَلِيٌّ ثنا سُفْيَانُ ثنا الزُّهْرِيُّ ⦗٦٤٢⦘ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ: رَبِّ آكُلُ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب گرمی کی شدت ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو (موخر کرلو) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس سے پیدا ہوتی ہے اور (جہنم کی) آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے، پس اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں اور جو تم سخت گرمی اور سردی محسوس کرتے ہو یہ اسی وجہ سے ہوتی ہے۔“