السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا يحيل حكم القاضي على المقضي له، والمقضي عليه، ولا يجعل الحلال على واحد منهما حراما، ولا الحرام على واحد منهما حلالا باب: قاضی کا فیصلہ، جس کے حق میں فیصلہ ہوا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، ان کے لیے حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور نہ ہی حرام کو حلال بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 20538
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ: " إِنِّي لَأَقْضِي لَكَ، وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ ظَالِمًا، وَلَكِنْ لَا يَسَعُنِي إِلَّا أَنْ أَقْضِيَ بِمَا يَحْضُرْنِي مِنَ الْبَيِّنَةِ، وَإِنَّ قَضَائِي لَا يُحِلُّ لَكَ حَرَامًا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی سے کہا: میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں لیکن میں تمہیں ظالم خیال کرتا ہوں، پھر بھی گواہوں کی وجہ سے فیصلے کی کوشش کرتا ہوں لیکن میرا فیصلہ حرام کو حلال نہ بنا دے گا۔