حدیث نمبر: 20537
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ كُنَاسَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗٢٥٣⦘ الْعَوَّامِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ تَكَلُّمُ حَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ، وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ وَمَجْلِسِكَ وَقَضَائِكَ، حَتَّى لَا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلَا يَيْأَسَ ضَعِيفٌ مِنْ عَدْلِكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا، وَمَنِ ادَّعَى حَقًّا غَائِبًا، أَوْ بَيِّنَةً فَاضْرِبْ لَهُ أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ بِبَيِّنَةٍ أَعْطَيْتَهُ بِحَقِّهِ، فَإِنْ أَعْجَزَهُ ذَلِكَ اسْتَحْلَلْتَ عَلَيْهِ الْقَضِيَّةَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، وَأَجْلَى لِلْعَمَى، وَلَا يَمْنَعْكَ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ الْيَوْمَ فَرَاجَعْتَ فِيهِ لِرَأْيِكَ، وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ، أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، لِأَنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، لَا يُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الشَّهَادَةِ، إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ عَلَيْهِ شَهَادَةُ الزُّورِ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَوَلَّى مِنَ الْعِبَادِ السِّرَائِرَ، وَسَتَرَ عَلَيْهِمُ الْحُدُودَ إِلَّا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْأَيْمَانِ، ثُمَّ الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، مِمَّا لَيْسَ فِي قُرْآنٍ وَلَا سُنَّةٍ، ثُمَّ قَايِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْرِفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ، ثُمَّ اعْمِدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللهِ فِيمَا تَرَى، وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ، وَإِيَّاكَ وَالْغَضَبَ، وَالْقَلَقَ وَالضَّجَرَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ عِنْدَ الْخُصُومَةِ، وَالتَّنَكُّرَ، فَإِنَّ الْقَضَاءَ فِي مَوَاطِنِ الْحَقِّ يُوجِبُ اللهُ لَهُ الْأَجْرَ، وَيُحْسِنُ بِهِ الذُّخْرَ، فَمَنْ خَلُصَتْ نِيَّتُهُ فِي الْحَقِّ، وَلَوْ كَانَ عَلَى نَفْسِهِ كَفَاهُ اللهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لَهُمْ بِمَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ شَانَهُ اللهُ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعِبَادَةِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللهِ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ، وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ؟.
حافظ ثناء اللہ

ابوعوام بصری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ عہدۂ قضا ایک فریضہ ہے اور ایسی سنت ہے جس کی اتباع کی جائے گی۔ جب کوئی فیصلہ آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو اسے اچھی طرح سمجھ لیں، تاکہ کوئی معزز شخص آپ سے ناانصافی کی امید نہ رکھے اور کوئی کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہ ہو۔ مدعی کے ذمے دلیل پیش کرنا ہے اور منکر پر قسم کھانا لازم ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ جس نے کسی حق کا دعویٰ کیا یا دلیل کی مہلت چاہی تو آپ اس کے لیے وقت کی تعیین کریں؛ اگر وہ دلیل لے آئے تو اس کا حق ادا کر دیں، اور اگر دلیل پیش نہ کر سکے تو اس کے خلاف فیصلہ دینا درست ہے، یہ اس کا عذر مکمل ختم کرنے کے لیے بھی بہتر ہے اور راستہ کے اعتبار سے زیادہ واضح بھی ہے۔ جو فیصلہ آپ آج کریں، اس سے آپ کو کوئی چیز منع نہ کرے کہ آپ نے اپنی رائے کے بارے میں مشورہ کیا اور آپ کی صحیح رہنمائی ہو گئی تو آپ حق پر ٹھہر جائیں، کیونکہ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، اور باطل کی طرف مائل ہونے کے بجائے حق کی طرف رجوع کر لینا بہتر ہے۔ تمام مسلمان ایک دوسرے پر گواہی دینے کے اہل ہیں، سوائے اس کے جسے حد لگائی گئی ہو، یا جسے جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو، یا ولاء یا قرابت داری کے اندر جس پر تہمت لگائی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے باطنی رازوں کی ذمہ داری خود لی ہے، اور حد صرف دلائل اور قسموں کی بنا پر جاری کی جائے گی۔ پھر جو فیصلہ آپ کے سامنے پیش کیا جائے اسے اچھی طرح سمجھ لیں، اور جو قرآن و سنت میں موجود نہ ہو، اس میں معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس کر لیا کریں، پھر ایک جیسی اشیاء کو پہچان لیا کریں، پھر اس بات کا قصد کریں جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب اور حق کے زیادہ قریب ہو۔ فیصلے کے دوران غصے، اضطراب اور لوگوں کے جھگڑوں سے اذیت محسوس نہ کریں۔ حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرما دیتے ہیں اور اسے ذخیرہ بنا دیتے ہیں (یعنی نیکیوں کا ذخیرہ) اگر نیت درست ہو، خواہ فیصلہ اس کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جس نے اس چیز کو مزین کر کے پیش کیا جو اس کے دل میں نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے؛ اللہ تعالیٰ صرف اپنے بندوں سے خلوص کو قبول فرماتا ہے، تو آپ کا غیر اللہ کے بجائے اللہ کے جلد ملنے والے رزق اور اس کی رحمت کے خزانوں کے بارے میں کیا گمان ہے؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20537
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متقدم برقم 20283»