کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قاضی کا فیصلہ، جس کے حق میں فیصلہ ہوا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، ان کے لیے حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور نہ ہی حرام کو حلال بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 20531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو، شاید تمہارا بعض، بعض سے زیادہ احسن انداز سے اپنے دلائل بیان کر سکے تو میں اس طرح اس کے لیے فیصلہ کر دوں جو میں نے سنا، جس کے لیے میں کسی کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں وہ نہ لے، میں تو اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔“
حدیث نمبر: 20532
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو۔ تمہارا بعض بعض سے زیادہ اپنے دلائل کو بیان کرنے والا ہو۔ جو میں نے سنا اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ ایسی صورت میں جس کے لیے میں کسی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس سے کچھ نہ لے، میں جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر اس کو دے رہا ہوں۔“
حدیث نمبر: 20533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ ⦗٢٥٢⦘ وَمَتْنِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنی سند و متن سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کو میں اس کے بھائی کا حق دے دوں وہ نہ لے، کیونکہ میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔“
حدیث نمبر: 20534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ - يَعْنِي: ابْنَ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ أَشْكَابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِكَ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ يَعْقُوبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے کے قریب جھگڑا سنا۔ آپ باہر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں۔ میرے پاس جھگڑا آتا ہے، شاید بعض اپنے دلائل کو احسن انداز سے بیان کر دے، میں اس کو سچا خیال کروں اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں تو وہ اپنے مسلمان بھائی کا حق وصول نہ کرے؛ کیونکہ یہ جہنم کا ٹکڑا ہے۔“
حدیث نمبر: 20535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتِ: اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ، عَهِدَ إِلِيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، فَانْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهٍ بَيِّنٍ بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ "، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَاهُ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سعد اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے ایک غلام کے بارے میں جھگڑا کیا، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھتیجا ہے، میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے، آپ اس کی مشابہت بھی دیکھ لیں۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے یہ پیدا ہوا، تو نبی ﷺ نے اس کی مشابہت عتبہ سے واضح دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے، «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ”بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“ اے سودہ! آپ اس سے پردہ کریں۔“ اس نے کبھی بھی سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 20536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَعْقُوبَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے دین میں اضافہ کیا جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے۔“
حدیث نمبر: 20537
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ كُنَاسَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَبِي ⦗٢٥٣⦘ الْعَوَّامِ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، فَإِنَّهُ لَا يَنْفَعُ تَكَلُّمُ حَقٍّ لَا نَفَاذَ لَهُ، وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ وَمَجْلِسِكَ وَقَضَائِكَ، حَتَّى لَا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلَا يَيْأَسَ ضَعِيفٌ مِنْ عَدْلِكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا، أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا، وَمَنِ ادَّعَى حَقًّا غَائِبًا، أَوْ بَيِّنَةً فَاضْرِبْ لَهُ أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ بِبَيِّنَةٍ أَعْطَيْتَهُ بِحَقِّهِ، فَإِنْ أَعْجَزَهُ ذَلِكَ اسْتَحْلَلْتَ عَلَيْهِ الْقَضِيَّةَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، وَأَجْلَى لِلْعَمَى، وَلَا يَمْنَعْكَ مِنْ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ الْيَوْمَ فَرَاجَعْتَ فِيهِ لِرَأْيِكَ، وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ، أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، لِأَنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، لَا يُبْطِلُ الْحَقَّ شَيْءٌ، وَمُرَاجَعَةُ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، وَالْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الشَّهَادَةِ، إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ عَلَيْهِ شَهَادَةُ الزُّورِ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَوَلَّى مِنَ الْعِبَادِ السِّرَائِرَ، وَسَتَرَ عَلَيْهِمُ الْحُدُودَ إِلَّا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْأَيْمَانِ، ثُمَّ الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ، مِمَّا لَيْسَ فِي قُرْآنٍ وَلَا سُنَّةٍ، ثُمَّ قَايِسِ الْأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ، وَاعْرِفِ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ، ثُمَّ اعْمِدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللهِ فِيمَا تَرَى، وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ، وَإِيَّاكَ وَالْغَضَبَ، وَالْقَلَقَ وَالضَّجَرَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ عِنْدَ الْخُصُومَةِ، وَالتَّنَكُّرَ، فَإِنَّ الْقَضَاءَ فِي مَوَاطِنِ الْحَقِّ يُوجِبُ اللهُ لَهُ الْأَجْرَ، وَيُحْسِنُ بِهِ الذُّخْرَ، فَمَنْ خَلُصَتْ نِيَّتُهُ فِي الْحَقِّ، وَلَوْ كَانَ عَلَى نَفْسِهِ كَفَاهُ اللهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لَهُمْ بِمَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ شَانَهُ اللهُ، فَإِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعِبَادَةِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللهِ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ، وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ؟.
حافظ ثناء اللہ
ابوعوام بصری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ عہدۂ قضا ایک فریضہ ہے اور ایسی سنت ہے جس کی اتباع کی جائے گی۔ جب کوئی فیصلہ آپ کے سامنے پیش کیا جائے تو اسے اچھی طرح سمجھ لیں، تاکہ کوئی معزز شخص آپ سے ناانصافی کی امید نہ رکھے اور کوئی کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہ ہو۔ مدعی کے ذمے دلیل پیش کرنا ہے اور منکر پر قسم کھانا لازم ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ جس نے کسی حق کا دعویٰ کیا یا دلیل کی مہلت چاہی تو آپ اس کے لیے وقت کی تعیین کریں؛ اگر وہ دلیل لے آئے تو اس کا حق ادا کر دیں، اور اگر دلیل پیش نہ کر سکے تو اس کے خلاف فیصلہ دینا درست ہے، یہ اس کا عذر مکمل ختم کرنے کے لیے بھی بہتر ہے اور راستہ کے اعتبار سے زیادہ واضح بھی ہے۔ جو فیصلہ آپ آج کریں، اس سے آپ کو کوئی چیز منع نہ کرے کہ آپ نے اپنی رائے کے بارے میں مشورہ کیا اور آپ کی صحیح رہنمائی ہو گئی تو آپ حق پر ٹھہر جائیں، کیونکہ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، اور باطل کی طرف مائل ہونے کے بجائے حق کی طرف رجوع کر لینا بہتر ہے۔ تمام مسلمان ایک دوسرے پر گواہی دینے کے اہل ہیں، سوائے اس کے جسے حد لگائی گئی ہو، یا جسے جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو، یا ولاء یا قرابت داری کے اندر جس پر تہمت لگائی گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے باطنی رازوں کی ذمہ داری خود لی ہے، اور حد صرف دلائل اور قسموں کی بنا پر جاری کی جائے گی۔ پھر جو فیصلہ آپ کے سامنے پیش کیا جائے اسے اچھی طرح سمجھ لیں، اور جو قرآن و سنت میں موجود نہ ہو، اس میں معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس کر لیا کریں، پھر ایک جیسی اشیاء کو پہچان لیا کریں، پھر اس بات کا قصد کریں جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب اور حق کے زیادہ قریب ہو۔ فیصلے کے دوران غصے، اضطراب اور لوگوں کے جھگڑوں سے اذیت محسوس نہ کریں۔ حق کے مطابق فیصلہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرما دیتے ہیں اور اسے ذخیرہ بنا دیتے ہیں (یعنی نیکیوں کا ذخیرہ) اگر نیت درست ہو، خواہ فیصلہ اس کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جس نے اس چیز کو مزین کر کے پیش کیا جو اس کے دل میں نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے رسوا کر دیتا ہے؛ اللہ تعالیٰ صرف اپنے بندوں سے خلوص کو قبول فرماتا ہے، تو آپ کا غیر اللہ کے بجائے اللہ کے جلد ملنے والے رزق اور اس کی رحمت کے خزانوں کے بارے میں کیا گمان ہے؟
حدیث نمبر: 20538
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ: " إِنِّي لَأَقْضِي لَكَ، وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ ظَالِمًا، وَلَكِنْ لَا يَسَعُنِي إِلَّا أَنْ أَقْضِيَ بِمَا يَحْضُرْنِي مِنَ الْبَيِّنَةِ، وَإِنَّ قَضَائِي لَا يُحِلُّ لَكَ حَرَامًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی سے کہا: میں تمہارا فیصلہ کرتا ہوں لیکن میں تمہیں ظالم خیال کرتا ہوں، پھر بھی گواہوں کی وجہ سے فیصلے کی کوشش کرتا ہوں لیکن میرا فیصلہ حرام کو حلال نہ بنا دے گا۔