السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا يحيل حكم القاضي على المقضي له، والمقضي عليه، ولا يجعل الحلال على واحد منهما حراما، ولا الحرام على واحد منهما حلالا باب: قاضی کا فیصلہ، جس کے حق میں فیصلہ ہوا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، ان کے لیے حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور نہ ہی حرام کو حلال بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 20532
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو۔ تمہارا بعض بعض سے زیادہ اپنے دلائل کو بیان کرنے والا ہو۔ جو میں نے سنا اس کے مطابق فیصلہ کر دیا۔ ایسی صورت میں جس کے لیے میں کسی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس سے کچھ نہ لے، میں جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر اس کو دے رہا ہوں۔“