السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا يحيل حكم القاضي على المقضي له، والمقضي عليه، ولا يجعل الحلال على واحد منهما حراما، ولا الحرام على واحد منهما حلالا باب: قاضی کا فیصلہ، جس کے حق میں فیصلہ ہوا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، ان کے لیے حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور نہ ہی حرام کو حلال بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 20531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلِيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو، شاید تمہارا بعض، بعض سے زیادہ احسن انداز سے اپنے دلائل بیان کر سکے تو میں اس طرح اس کے لیے فیصلہ کر دوں جو میں نے سنا، جس کے لیے میں کسی کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں وہ نہ لے، میں تو اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔“