السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من قال: للقاضي أن يقضي بعلمه باب: جس نے کہا کہ قاضی کے لیے اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 20498
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى ⦗٢٤٠⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذِي بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرا خاوند ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ اتنا خرچہ نہیں دیتا جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو، لیکن میں بن بتائے اس کے مال سے لے لیتی ہوں، کیا میرے اوپر گناہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی سے اتنا لو جتنا تجھے اور تیری اولاد کو کفایت کر جائے۔“