حدیث نمبر: 20499
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ، أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ، وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: " أَعْطِهَا، فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: " أَعْطِهَا، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے بھائی فوت ہو گئے، انہوں نے تین سو درہم اور گھر والے چھوڑے، انہوں نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ اس کے گھر والوں پر خرچ کر دوں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیرے بھائی پر قرض ہے تو اس کو ادا کرو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! صرف دو دینار باقی ہیں، ایک عورت کا دعویٰ تھا، لیکن اس کے پاس دلیل نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ادا کرو وہ سچی ہے۔“
(ب) عبدالواحد کی روایت میں ہے کہ ”ادا کرو وہ سچی ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20499
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»