السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : ما يفعل بشاهد الزور باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20497
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ: " أَنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُؤْتَى بِشَاهِدِ الزُّورِ، فَيَطُوفُ بِهِ فِي أَهْلِ مَسْجِدِهِ وَسُوقِهِ فَيَقُولُ: " إِنَّا قَدْ زَيَّفْنَا شَهَادَةَ هَذَا ".حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ حضرت ابو حصین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس جھوٹا گواہ لایا جاتا تو وہ بازار اور مسجد کا چکر لگواتے اور فرماتے: ہم نے اس کی گواہی کو باطل قرار دے دیا۔