السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : ما يفعل بشاهد الزور باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20495
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَامِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ يَقُولُ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا أَخَذَ شَاهِدَ زُورٍ بَعَثَ بِهِ إِلَى عَشِيرَتِهِ فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا شَاهِدُ زُورٍ فَاعْرِفُوهُ، وَعَرِّفُوهُ " ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ: هَلْ كَانَ فِيهِ ضَرْبٌ؟ قَالَ: لَا ". وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ.حافظ ثناء اللہ
علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بھی جھوٹے گواہ کو پکڑتے تو اسے اس کے قبیلے کی طرف روانہ کرتے اور فرماتے: ”یہ جھوٹا گواہ ہے، تم اسے پہچان لو اور اس کی پہچان کراؤ۔“ پھر اس کا راستہ چھوڑ دیتے۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس میں مارنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔