السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : ما يفعل بشاهد الزور باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي كُورِ الشَّامِ فِي شَاهِدِ الزُّورِ: " أَنْ يُجْلَدَ أَرْبَعِينَ، وَيُحْلَقَ رَأْسُهُ، وَيُسْخَمَ وَجْهُهُ، وَيُطَافَ بِهِ، وَيُطَالَ حَبْسُهُ ". هَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ ضَعِيفَتَانِ وَمُنْقَطِعَتَانِ، وَالرِّوَايَتَانِ الْأُولَيَانِ مَوْصُولَتَانِ، إِلَّا أَنَّ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحُدُودِ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُجْلَدْ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ ". وَالْأَخْذُ بِهِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.مکحول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عمال کو شام کی بستیوں میں لکھا کہ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے لگائے جائیں، سر مونڈا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، شہر کا چکر لگایا جائے اور لمبی مدت قید کیا جائے۔
(ب) سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس کوڑوں سے زیادہ صرف حدود اللہ میں لگائے جائیں۔“
یہ دونوں روایتیں ضعیف اور منقطع ہیں، اور پہلی دونوں روایتیں متصل ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک میں ایسا راوی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی، واللہ اعلم۔ اور ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ والی ثابت حدیث پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔